Tuesday, October 27, 2026
FB
غزل

ہزاروں دکھ پڑیں سہنا محبت مر نہیں سکتی

وصی شاہ
28 Views Sep 13, 2026 0 min read
ہزاروں دکھ پڑیں سہنا محبت مر نہیں سکتی ہے تم سے بس یہی کہنا محبت مر نہیں سکتی ترا ہر بار میرے خط کو پڑھنا اور رو دینا مرا ہر بار لکھ دینا محبت مر نہیں سکتی کیا تھا ہم نے کیمپس کی ندی پر اک حسیں وعدہ بھلے ہم کو پڑے مرنا محبت مر نہیں سکتی پرانے عہد کو جب زندہ کرنے کا خیال آئے مجھے بس اتنا لکھ دینا محبت مر نہیں سکتی وہ تیرا ہجر کی شب فون رکھنے سے ذرا پہلے بہت روتے ہوئے کہنا محبت مر نہیں سکتی گئے لمحات فرصت کے کہاں سے ڈھونڈ کر لاؤں وہ پہروں ہاتھ پر لکھنا محبت مر نہیں سکتی
Copied!