Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

کیا کہیں تجھ سے کہ کس کس کے کرم ہیں ہم ہیں

وصی شاہ
31 Views Sep 13, 2026 0 min read
کیا کہیں تجھ سے کہ کس کس کے کرم ہیں ہم ہیں کچھ ترے کچھ تری دنیا کے ستم ہیں ہم ہیں تو نے پوچھا ہے تو احوال بتا دیتے ہیں بس تری یاد ہے اور آخری دم ہیں ہم ہیں ہائے کیا جان کے دروازہ نہ کھولا اس نے ہم پکارا ہی کیے یار یہ ہم ہیں ہم ہیں کیسے کیسے وہ کیا کرتا ہے وعدے ہم سے صبح سے شام تلک اس کے بھرم ہیں ہم ہیں ساقیا ہم سے بھی دیرینہ مراسم ہیں ترے یہ جو محروم قدح غرق الم ہیں ہم ہیں تو ہی شیرازۂ جاں ہے تو ہی شیرازۂ دل جب تلک ہم پہ ترے جور و ستم ہیں ہم ہیں جن کو مجنوں بھی کیا کرتا ہے جھک کر آداب گرچہ اس طرح کے عاشق بڑے کم ہیں ہم ہیں یہ ہمارا ہے کسی اور کا لاشہ تو نہیں کس لیے آنکھ کے گوشے ترے نم ہیں ہم ہیں ساقیا حفظ مراتب کا ذرا دھیان رہے ایسا لگتا ہے کہ معیار سے کم ہیں ہم ہیں غیر کے دم سے ہے رونق بھی چراغاں بھی وصیؔ تیری محفل میں اگر سبز قدم ہیں ہم ہیں
Copied!