Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے

راکب مختار
32 Views Sep 13, 2026 0 min read
میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے پرائے شہر میں اپنے تلاش کرتے ہوئے پھر ایک صبح مجھے آنکھ پھوڑنا پڑی تھی حسین خواب کے ریشے تلاش کرتے ہوئے میں سوکھے پیڑ سے اکثر کلام کرتا تھا ہواۓ سبز کے لہجے تلاش کرتے ہوئے ہم ان پرندوں کے جیسے ہیں جو زمیں پہ تری شکار ہو گئے دانے تلاش کرتے ہوئے کبھی کبھی تو مکمل غزل سے ملتا ہوں سخن کے شہر میں مصرعے تلاش کرتے ہوئے کہیں کہیں تو مجھے آنکھ خرچ کرنا پڑی نفیس پاؤں کے چھالے تلاش کرتے ہوئے
Copied!