Tuesday, October 27, 2026
FB
غزل

دکھ درد کے ماروں سے مرا ذکر نہ کرنا

وصی شاہ
31 Views Sep 13, 2026 0 min read
دکھ درد کے ماروں سے مرا ذکر نہ کرنا گھر جاؤ تو یاروں سے مرا ذکر نہ کرنا وہ ضبط نہ کر پائیں گی آنکھوں کے سمندر تم راہ گزاروں سے مرا ذکر نہ کرنا پھولوں کے نشیمن میں رہا ہوں میں سدا سے دیکھو کبھی خاروں سے مرا ذکر نہ کرنا شاید یہ اندھیرے ہی مجھے راہ دکھائیں اب چاند ستاروں سے مرا ذکر نہ کرنا وہ میری کہانی کو غلط رنگ نہ دے دیں افسانہ نگاروں سے مرا ذکر نہ کرنا شاید وہ مرے حال پہ بے ساختہ رو دیں اس بار بہاروں سے مرا ذکر نہ کرنا لے جائیں گے گہرائی میں تم کو بھی بہا کر دریا کے کناروں سے مرا ذکر نہ کرنا وہ شخص ملے تو اسے ہر بات بتانا تم صرف اشاروں سے مرا ذکر نہ کرنا
Copied!