Tuesday, October 27, 2026
FB
غزل

ڈوبتا صاف نظر آیا کنارہ کوئی دوست

وصی شاہ
23 Views Sep 13, 2026 0 min read
ڈوبتا صاف نظر آیا کنارہ کوئی دوست پھر بھی کشتی سے نہیں ہم نے اتارا کوئی دوست جب بھی نیکی کا کوئی کام کیا ہے ہم نے دے دیا رب نے ہمیں آپ سے پیارا کوئی دوست جیت پر خوش ہو تجھے اس سے غرض کیا مرے یار تیری خوشیوں کے لئے جان سے ہارا کوئی دوست کیسے جی پائیں گے اس شہر پریشاں میں جہاں کوئی دشمن ہے ہمارا نہ ہمارا کوئی دوست کچھ تو جینے کے لئے ہم کو بھی دے رب کریم ساغر و مینا کسی غم کا سہارا کوئی دوست روٹھ جائے مری آنکھوں سے بھلے بینائی کاش روٹھے نہ وصیؔ آنکھ کا تارا کوئی دوست
Copied!