تیرا کیا ہے دیکھنے کا جب بہانہ بن گیا
دھڑکنوں سے مالا مال اک دل نشانہ بن گیا
میرے بچے لفظ کی خیرات سے پلنے لگے
شاعری تو میرے گھر کا آب و دانہ بن گیا
تنکا تنکا جوڑ کر بیٹھی ہے ایسے مطمئن
جیسے چڑیا کا فلک پر آشیانہ بن گیا
خاص گھر کی مالکن پر پیر صاحب مر مٹے
کچھ دنوں میں ننگ خانہ آستانہ بن گیا
تیری ہجرت کا خلا خالی نہیں رہنے دیا
تو گئی ، مجھ میں اداسی کا ٹھکانہ بن گیا
بادشاہا مطمئن ہو کے اٹھا کانوں سے ہاتھ
اب خموشی قوم کا قومی ترانہ بن گیا
Copied!