Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

تیرا کیا ہے دیکھنے کا جب بہانہ بن گیا

راکب مختار
31 Views Sep 14, 2026 0 min read
تیرا کیا ہے دیکھنے کا جب بہانہ بن گیا دھڑکنوں سے مالا مال اک دل نشانہ بن گیا میرے بچے لفظ کی خیرات سے پلنے لگے شاعری تو میرے گھر کا آب و دانہ بن گیا تنکا تنکا جوڑ کر بیٹھی ہے ایسے مطمئن جیسے چڑیا کا فلک پر آشیانہ بن گیا خاص گھر کی مالکن پر پیر صاحب مر مٹے کچھ دنوں میں ننگ خانہ آستانہ بن گیا تیری ہجرت کا خلا خالی نہیں رہنے دیا تو گئی ، مجھ میں اداسی کا ٹھکانہ بن گیا بادشاہا مطمئن ہو کے اٹھا کانوں سے ہاتھ اب خموشی قوم کا قومی ترانہ بن گیا
Copied!