Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سے

وصی شاہ
33 Views Sep 13, 2026 0 min read
کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سے میرے قدموں پہ مرا سر ہے کئی صدیوں سے خوف رہتا ہے نہ سیلاب کہیں لے جائے میری پلکوں پہ ترا گھر ہے کئی صدیوں سے اشک آنکھوں میں سلگتے ہوئے سو جاتے ہیں یہ مری آنکھ جو بنجر ہے کئی صدیوں سے کون کہتا ہے ملاقات مری آج کی ہے تو مری روح کے اندر ہے کئی صدیوں سے میں نے جس کے لیے ہر شخص کو ناراض کیا روٹھ جائے نہ یہی ڈر ہے کئی صدیوں سے اس کو عادت ہے جڑیں کاٹتے رہنے کی وصیؔ جو مری ذات کا محور ہے کئی صدیوں سے
Copied!