Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

یہ کب کہا تھا نظاروں سے خوف آتا ہے

وصی شاہ
23 Views Sep 13, 2026 0 min read
یہ کب کہا تھا نظاروں سے خوف آتا ہے مجھے تو چاند ستاروں سے خوف آتا ہے میں دشمنوں کے کسی وار سے نہیں ڈرتا مجھے تو اپنے ہی یاروں سے خوف آتا ہے خزاں کا جبر تو سینے پہ روک لیتے ہیں ہمیں اداس بہاروں سے خوف آتا ہے ملے ہیں دوستو بیساکھیوں سے غم اتنے مرے بدن کو سہاروں سے خوف آتا ہے میں التفات کی خندق سے دور رہتا ہوں تعلقات کے غاروں سے خوف آتا ہے
Copied!