Tuesday, October 27, 2026
FB
غزل

ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے

وصی شاہ
30 Views Sep 13, 2026 0 min read
ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے کہ اشک روکنا تم سے محال ہونا ہے ہر ایک لب پہ ہے میری وفا کے افسانے ترے ستم کو ابھی لا زوال ہونا ہے بجا کہ خواب ہیں لیکن بہار کی رت میں یہ طے ہے اب کے ہمیں بھی نہال ہونا ہے تمہیں خبر ہی نہیں تم تو لوٹ جاؤ گے تمہارے ہجر میں لمحہ بھی سال ہونا ہے ہماری روح پہ جب بھی عذاب اتریں گے تمہاری یاد کو اس دل کو ڈھال ہونا ہے کبھی تو روئے گا وہ بھی کسی کی بانہوں میں کبھی تو اس کی ہنسی کو زوال ہونا ہے ملیں گی ہم کو بھی اپنے نصیب کی خوشیاں بس انتظار ہے کب یہ کمال ہونا ہے ہر ایک شخص چلے گا ہماری راہوں پر محبتوں میں ہمیں وہ مثال ہونا ہے زمانہ جس کے خم و پیچ میں الجھ جائے ہماری ذات کو ایسا سوال ہونا ہے وصیؔ یقین ہے مجھ کو وہ لوٹ آئے گا اسے بھی اپنے کئے کا ملال ہونا ہے
Copied!