Tuesday, October 27, 2026
FB
غزل

دل ہوش سے بیگانہ بیگانے کو کیا کہئے

وصی شاہ
27 Views Sep 13, 2026 0 min read
دل ہوش سے بیگانہ بیگانے کو کیا کہئے چپ رہنا ہی بہتر ہے دیوانے کو کیا کہئے کچھ بھی تو نہیں دیکھا اور کوچ کی تیاری یوں آنے سے کیا حاصل یوں جانے کو کیا کہئے مجبور ہیں سب اپنی افتاد طبیعت سے ہو شمع سے کیا شکوہ پروانے کو کیا کہئے تجھ سے ہی مراسم ہیں تجھ سے ہی گلا ہوگا بیگانے سے کیا لینا بیگانے کو کیا کہئے مانا کہ وصیؔ شہ سے تم کو ہیں بہت شکوے دیوانہ ہے دیوانہ دیوانے کو کیا کہئے
Copied!