Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

اس کے ہاتھوں سے جو خوشبوئے حنا آتی ہے

وصی شاہ
30 Views Sep 13, 2026 0 min read
اس کے ہاتھوں سے جو خوشبوئے حنا آتی ہے ایسا لگتا ہے کہ جنت سے ہوا آتی ہے چومنے دار کو کس دھج سے چلا ہے کوئی آج کس ناز سے مقتل میں قضا آتی ہے نہ کبھی کوئی کرے تجھ سے ترے جیسا سلوک ہاتھ اٹھتے ہی یہی لب پہ دعا آتی ہے تیرے غم کو یہ برہنہ نہیں رہنے دیتی میری آنکھوں پہ جو اشکوں کی ردا آتی ہے اس کے چہرے کی تمازت بھی ہے شامل اس میں آج تپتی ہوئی ساون کی گھٹا آتی ہے گھومنے جب بھی ترے شہر میں جاتی ہے وفا بین کرتی ہوئی واپس وہ سدا آتی ہے ہے وہی بات ہر اک لب پہ بہت عام یہاں ہم سے جو کہتے ہوئے ان کو حیا آتی ہے
Copied!