Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

سوچتا ہوں کہ اسے نیند بھی آتی ہوگی

وصی شاہ
29 Views Sep 13, 2026 0 min read
سوچتا ہوں کہ اسے نیند بھی آتی ہوگی یا مری طرح فقط اشک بہاتی ہوگی وہ مری شکل مرا نام بھلانے والی اپنی تصویر سے کیا آنکھ ملاتی ہوگی اس زمیں پر بھی ہے سیلاب مرے اشکوں سے میرے ماتم کی صدا عرش ہلاتی ہوگی شام ہوتے ہی وہ چوکھٹ پہ جلا کر شمعیں اپنی پلکوں پہ کئی خواب سلاتی ہوگی اس نے سلوا بھی لیے ہوں گے سیہ رنگ لباس اب محرم کی طرح عید مناتی ہوگی میرے تاریک زمانوں سے نکلنے والی روشنی تجھ کو مری یاد دلاتی ہوگی روپ دے کر مجھے اس میں کسی شہزادے کا اپنے بچوں کو کہانی وہ سناتی ہوگی
Copied!