ولا کے باغ میں کھلتے ہوئے گل تر نے
یزیدیت کی رگیں کاٹ دی ہیں اصغر نے
نہیں نہیں وہ فقط گردن حسین نہ تھی
نبی کے بوسے بھی کاٹے ہیں تیرے خنجر نے
خدا ء آب سمندر سلامی کےلئے بھیج
روانہ ہو گئے عباس مشک کو بھرنے
امام عصر ! کئی شاہ طشت بھر کے بڑھے
قبول کی نہیں دنیا ترے گداگر نے
یہ گودیوں سے ہی ناد علی کے قاری ہیں
یہ موت جیسی حسیں چیز سے نہیں ڈرنے
Copied!