Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں

راکب مختار
32 Views Sep 13, 2026 0 min read
عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں مریض زہر سمجھ کر دوا سے مر جائیں یہ سوچ کر ہی ہمیں خود کشی ثواب لگی جو کی ہے ماں نے تو پھر بد دعا سے مر جائیں یہ احتجاج سمندر کے دم کو کافی ہے کسی کنارے پہ دو چار پیاسے مر جائیں فسادیوں کو میں اس شرط پر رہا کروں گا کہ فاختہ کے پروں کی ہوا سے مر جائیں تو اپنے لہجے کی رقت کو تھوڑا کم کر دے فقیر لوگ نہ تیری صدا سے مر جائیں اٹھا کے پھرتے ہیں ہم آپ صرف نام تو لیں قسم سے آپ تو کاسے کی کا سے مر جائیں
Copied!