شاعری
حر فوج شام چھوڑ کے شبیر سے ملے
راکب مختار کے یہ اشعار حر کی وفاداری، امام حسینؓ سے وابستگی اور کربلا کے روحانی انقلاب کو مختصر مگر پُرجوش انداز میں بیان کرتے ہیں۔
مکمل شاعری پڑھیں ←کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھے
کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھے، شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو — محسنؔ نقوی کی درد بھری شاعری، جس میں تنہائی، تھکن، گھر کی طلب اور اپنائیت کا احساس نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←دل دکھتا ہے
دل دکھتا ہے، آباد گھروں سے دور کہیں — محسنؔ نقوی کی درد بھری نظم، جس میں پردیس، تنہائی، ویرانی، خوف اور اجنبیت کی گہری کیفیت بیان کی گئی ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←میری محفل تھا مری خلوت جاں تھا کیا تھا
وصی شاہ کی خوبصورت غزل، جس میں ایک پراسرار شخصیت، محبت، وصل و جدائی، حسن اور حیرت کی کیفیت کو نہایت دلکش اور رمز آمیز انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←سیدانیوں نے گھر سے جو باہر قدم رکھے
راکب مختار کے یہ اشعار حضرت عباسؓ کی وفا، علم اور اہلِ بیتؓ کے احترام و عقیدت کے جذبات کو نہایت پُرجوش اور مؤثر انداز میں بیان کرتے ہیں۔
مکمل شاعری پڑھیں ←ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی، میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی — محسنؔ نقوی کی درد بھری شاعری، جس میں جدائی، محبت اور دونوں دلوں کی مشترکہ کیفیت نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←مری گلی کے غلیظ بچو
مری گلی کے غلیظ بچو، تم اپنے میلے بدن کی ساری غلاظتوں کو ادھار سمجھو — محسنؔ نقوی کی فکر انگیز نظم، جس میں غربت، محرومی، معاشرتی زوال، تعلیم، تہذیب اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا درد نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←کتنی دل کش ہو تم کتنا دلجو ہوں میں
کتنی دل کش ہو تم کتنا دلجو ہوں میں کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے
مکمل شاعری پڑھیں ←اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا
اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا، دل کا عالم ہے ترے بعد خلاؤں جیسا — محسنؔ نقوی کی درد بھری غزل، جس میں جدائی، خاموشی، یاد اور دل کی بے قراری کو بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←غزلوں کی دھنک اوڑھ مرے شعلہ بدن تو
غزلوں کی دھنک اوڑھ مرے شعلہ بدن تو، ہے میرا سخن تو مرا موضوع سخن تو — محسنؔ نقوی کی خوبصورت غزل، جس میں محبت، سخن، تخیل، حسن، روشنی اور فن کی دلکش کیفیات نمایاں ہیں۔
مکمل شاعری پڑھیں ←عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں
راکب مختار کی خوبصورت غزل، جس میں معاشرتی ناانصافی، احتجاج، درد، طنز، انسانی بے بسی اور تلخ حقیقتوں کو نہایت گہرے اور اثر انگیز انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←