شاعری
معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا
معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا، تیرے دریا پہ مری پیاس کا پہرہ ہوگا — محسنؔ نقوی کی خوبصورت غزل، جس میں محبت، انتظار، یاد، فاصلے اور درد کی گہری کیفیت نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←اس سمت نہ جانا جان مری
اس سمت نہ جانا جان مری، اس سمت کی ساری روشنیاں — محسنؔ نقوی کی فکر انگیز نظم، جس میں خطرے، تباہی، جنگ، خوف اور محبت کی حفاظت کا احساس نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←ترے بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہے
ترے بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہے، مثال رنگ وہ جھونکا نظر بھی آتا ہے — محسنؔ نقوی کی خوبصورت غزل، جس میں محبت، یاد، وفا اور جدائی کے جذبات کو بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا
اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا، دل کا عالم ہے ترے بعد خلاؤں جیسا — محسنؔ نقوی کی درد بھری غزل، جس میں جدائی، خاموشی، یاد اور دل کی بے قراری کو بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں
بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں، صحرا مرا چہرا ہے سمندر تری آنکھیں — محسنؔ نقوی کی خوبصورت غزل، جس میں محبت، جدائی، یاد اور آنکھوں کی گہری کیفیت کو بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←سفر کے نقشے میں چٹئیل زمیں بنائی گئی
راکب مختار کی خوبصورت غزل، جس میں سرحدوں، وسیع دلی، دوستی، تخلیق اور محبت کے مختلف رنگوں کو نہایت گہرے اور فکری انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←درون ٍ قلب کہیں دشت ٍ کربلا کوئی ہے
راکب مختار کی یہ عقیدت بھری شاعری کربلا، امام حسینؓ، حضرت غازیؓ، وفا، شہادت اور حق کے لیے استقامت کے جذبات کو گہرے اور پُرجوش انداز میں بیان کرتی ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے، بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے — مرزا غالبؔ کی شہرۂ آفاق غزل، جس میں خواہش، محبت اور انسانی جذبات کی گہری عکاسی ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←خمار موسم خوشبو حد چمن میں کھلا
خمار موسم خوشبو حد چمن میں کھلا، مری غزل کا خزانہ ترے بدن میں کھلا — محسنؔ نقوی کی خوبصورت غزل، جس میں حسن، محبت، خوشبو، ملاقات، یاد اور جذبات کی دلکش کیفیات نمایاں ہیں۔
مکمل شاعری پڑھیں ←دل سا مصرع ہے مرے ذہن میں کہنے دیجے
راکب مختار کا یہ شعر عقیدت، محبت اور حضرت امام حسینؓ سے وابستگی کے ایک گہرے جذباتی احساس کو مختصر مگر مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←ازل سے قائم ہیں دونوں اپنی ضدوں پہ محسنؔ
ازل سے قائم ہیں دونوں اپنی ضدوں پہ محسنؔ، چلے گا پانی مگر کنارہ نہیں چلے گا — محسنؔ نقوی کی فکر انگیز شاعری، جس میں پانی اور کنارے کے استعارے کے ذریعے اصول، مزاحمت اور اپنی جگہ قائم رہنے کی کیفیت نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←کسی کے دور جانے سے
کسی کے دور جانے سے، تعلق ٹوٹ جانے سے — ایک جذباتی نظم، جس میں جدائی، بے وفائی، تنہائی، زندگی اور موت کے خوف سے بے نیازی کی کیفیت نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←