شاعری
تمہیں کس نے کہا تھا
تمہیں کس نے کہا تھا، دوپہر کے گرم سورج کی طرف دیکھو — ایک فکر انگیز نظم، جس میں احتیاط، محبت، خطرے، اعتماد اور زندگی کے تلخ تجربات کو علامتی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←کتنی زلفیں اڑیں کتنے آنچل اڑے چاند کو کیا خبر
وصی شاہ کی خوبصورت غزل، جس میں محبت، انتظار، درد، جدائی اور چاندنی سے جڑے دکھوں کو نہایت خوبصورت اور علامتی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والے
یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والے، ڈریں ہوا سے پرندے کھلے پروں والے — محسنؔ نقوی کی فکر انگیز غزل، جس میں اجڑے گھروں، تنہائی، زوال، یاد اور بدلتے ہوئے زمانے کی گہری تصویر نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں، تری آنکھوں کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں — وصی شاہ کی درد بھری غزل، جس میں یاد، جدائی، حساسیت، غم اور آنکھوں کی نمی کی کیفیت نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←سبزہ اگے نہ پھول کھلیں کچھ نیا نہ ہو
راکب مختار کی یہ درد انگیز شاعری کربلا، وفا، حضرت عباسؓ، حضرت سکینہؓ، شام غریباں اور حضرت علی اصغرؓ کی یاد کو عقیدت اور غم کے گہرے جذبات کے ساتھ پیش کرتی ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا، بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں — محسنؔ نقوی کی درد بھری شاعری، جس میں یاد، جدائی اور محبوب کی آنکھوں سے وابستہ ایک خوبصورت منظر کی کیفیت نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←جو اپنی ذات سے باہر نہ آ سکا اب تک
جو اپنی ذات سے باہر نہ آ سکا اب تک، وہ پتھروں کو متاع حواس کیا دے گا — محسنؔ نقوی کی فکر انگیز شاعری، جس میں خود شناسی، محدودیت اور دوسروں پر اثرانداز ہونے کی گہری کیفیت نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←ہزاروں دکھ پڑیں سہنا محبت مر نہیں سکتی
وصی شاہ کی درد بھری غزل، جس میں جدائی، وعدوں، یادوں اور محبت کے ہمیشہ زندہ رہنے کے احساس کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں
وصی شاہ کی خوبصورت غزل، جس میں برسوں بعد محبوب کی واپسی، محبت، یاد، تنہائی اور دل میں دوبارہ جاگنے والے جذبات کو نہایت دلنشیں انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←پلٹ کے آ گئی خیمے کی سمت پیاس مری
پلٹ کے آ گئی خیمے کی سمت پیاس مری، پھٹے ہوئے تھے سبھی بادلوں کے مشکیزے — محسنؔ نقوی کی درد بھری شاعری، جس میں پیاس، کرب، خیمے اور بے بسی کی گہری کیفیت نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا، ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے — محسنؔ نقوی کی فکر انگیز شاعری، جس میں قربانی، شہادت، جدوجہد اور ظلم کے خلاف مزاحمت کی کیفیت نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←کئی سال گزرے
کئی سال گزرے، کئی سال بیتے — ایک درد بھری نظم، جس میں گزرتے وقت، نئے سال کی امید، دسمبر کی اداسی، زندگی کی جستجو اور دل کی خاموش کیفیت نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←