شاعری
قلم ہو تیغ ہو تیشہ کہ ڈھال مت چھینو
وصی شاہ کی خوبصورت غزل، جس میں علم، استقامت، آزادیِ فکر، بچوں کی تعلیم، یادوں اور زندگی کی خوشیوں کو محفوظ رکھنے کا پیغام نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←ہوا نے آ کے مجھے مژدہ ء رہائی دیا
راکب مختار کی یہ غزل آزادی، روشنی، بھوک، خاموشی، بے وفائی اور کربلا کے استعاروں کے ذریعے انسانی احساسات اور معاشرتی حقیقتوں کو گہرے شعری انداز میں پیش کرتی ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں
لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں، ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی — محسنؔ نقوی کی فکر انگیز شاعری، جس میں معاشرتی جبر، آزادیِ فکر اور تنہائی کی گہری کیفیت نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←سوچتا ہوں کہ اسے نیند بھی آتی ہوگی
وصی شاہ کی درد بھری غزل، جس میں جدائی، یاد، آنسو اور بچھڑنے کے بعد محبوب کی زندگی کے تصور کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←اب تو آیا یقیں کہ بیٹی کو
راکب مختار کا یہ شعر بیٹی کی قدر، معاشرتی رویوں اور اس سوچ پر گہرا سوال اٹھاتا ہے جس میں بیٹی کو خوشی کے بجائے ایک مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←وہ لمحہ بھر کی کہانی کہ عمر بھر میں کہی
وہ لمحہ بھر کی کہانی کہ عمر بھر میں کہی، ابھی تو خود سے تقاضے تھے اختصار کے بھی — محسنؔ نقوی کی فکر انگیز شاعری، جس میں مختصر لمحے، طویل یادیں اور اظہار کی گہری کیفیت نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←جان ہم تجھ پہ دیا کرتے ہیں
جان ہم تجھ پہ دیا کرتے ہیں، نام تیرا ہی لیا کرتے ہیں — ناسخؔ کی خوبصورت غزل، جس میں عشق، عقیدت اور محبت کے جذبات نمایاں ہیں۔
مکمل شاعری پڑھیں ←سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر
سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر، زندہ ہوں ساعتوں کو میں صدیوں میں ڈھال کر — محسنؔ نقوی کی فکر انگیز غزل، جس میں زندگی، جدوجہد، سفر، امید اور غم کی گہری کیفیت نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی
راکب مختار کی خوبصورت غزل، جس میں محبت، جدائی، تنہائی، وفاداری، سماجی رویوں اور بدلتے ہوئے تعلقات کی تلخ حقیقتوں کو گہرے اور مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے
راکب مختار کی خوبصورت غزل، جس میں تلاش، تنہائی، خواب، ہجرت، شاعری اور زندگی کے دشوار سفر کو نہایت گہرے اور فکری انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←دیار غیر میں کیسے تجھے صدا دیتے
دیار غیر میں کیسے تجھے صدا دیتے، تو مل بھی جاتا تو آخر تجھے گنوا دیتے — ایک درد بھری غزل، جس میں جدائی، بے بسی، محبت، یاد اور بچھڑنے کے کرب کی گہری کیفیت بیان کی گئی ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←دلاسا دیتے ہوئے لوگ کیا سمجھ پاتے
راکب مختار کا یہ شعر جدائی کے گہرے دکھ اور اس احساس کو بیان کرتا ہے کہ کبھی ایک شخص کا بچھڑنا پوری کائنات کے چھن جانے کے برابر محسوس ہوتا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←