شاعری
میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے
راکب مختار کی خوبصورت غزل، جس میں تلاش، تنہائی، خواب، ہجرت، شاعری اور زندگی کے دشوار سفر کو نہایت گہرے اور فکری انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←بس اتنا وقت ہی لگنا تھا زہر کھانے میں
راکب مختار کی یہ غزل درد، خاموشی، قید، تجربوں، انسانی منافقت اور زندگی کی تلخ حقیقتوں کو منفرد انداز میں بیان کرتی ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←نیا ہے شہر نئے آسرے تلاش کروں
نیا ہے شہر نئے آسرے تلاش کروں، تو کھو گیا ہے کہاں اب تجھے تلاش کروں — محسنؔ نقوی کی خوبصورت غزل، جس میں جدائی، تلاش، تنہائی اور یاد کی گہری کیفیت بیان ہوئی ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←مری وفا نے کھلائے تھے جو گلاب سارے جھلس گئے ہیں
وصی شاہ کی خوبصورت غزل، جس میں وفا، محبت، جدائی، یادوں، خوابوں اور جلتے ہوئے جذبات کو گہرے استعاروں اور درد بھرے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←اجڑ اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شام
اجڑ اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شام، نہ پوچھ کیسے گزرتی ہے تیرے ہجر کی شام — محسنؔ نقوی کی درد بھری غزل، جس میں ہجر، اداسی، یاد اور جدائی کی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←میرے اس دیدۂ خوں ناب کے پیچھے پیچھے
وصی شاہ کی خوبصورت غزل، جس میں بے خوابی، خواب، تلاش، ہنر، کامیابی، محبت اور محبوب کے نام کی دیوانگی کو نہایت گہرے اور خوبصورت استعاروں میں بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←سبزہ اگے نہ پھول کھلیں کچھ نیا نہ ہو
راکب مختار کی یہ درد انگیز شاعری کربلا، وفا، حضرت عباسؓ، حضرت سکینہؓ، شام غریباں اور حضرت علی اصغرؓ کی یاد کو عقیدت اور غم کے گہرے جذبات کے ساتھ پیش کرتی ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی، جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی — ظفرؔ کی خوبصورت غزل، جس میں محبت، بے قراری اور بدلتے رویوں کا اظہار ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو — مومنؔ خان مومن کی مشہور غزل، جس میں محبت، وعدوں اور بیتے ہوئے لمحات کی یاد کا خوبصورت اظہار ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا
ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا، کہ پیرہن تو گیا تھا بدن بھی چاک ہوا — محسنؔ نقوی کی درد بھری غزل، جس میں ہجر، تعلق، جدائی، بے خبری اور داخلی کرب کی گہری کیفیت نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←لبوں پہ حرف رجز ہے زرہ اتار کے بھی
لبوں پہ حرف رجز ہے زرہ اتار کے بھی، میں جشن فتح مناتا ہوں جنگ ہار کے بھی — محسنؔ نقوی کی فکر انگیز غزل، جس میں شکست و فتح، انتظار، منزل، دعا اور زندگی کے سفر کی گہری کیفیات نمایاں ہیں۔
مکمل شاعری پڑھیں ←ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں، ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں — علامہ اقبالؔ کی مشہور اور فکر انگیز نظم، جو بلند حوصلے اور مسلسل جدوجہد کا پیغام دیتی ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←