شاعری
زخم کے پھول سے تسکین طلب کرتی ہے
زخم کے پھول سے تسکین طلب کرتی ہے، بعض اوقات مری روح غضب کرتی ہے — محسنؔ نقوی کی فکر انگیز غزل، جس میں درد، روحانی کیفیت، مفلسی، زندگی اور محبت کے مختلف رنگ نمایاں ہیں۔
مکمل شاعری پڑھیں ←سارے لہجے ترے بے زماں ایک میں
سارے لہجے ترے بے زماں ایک میں، اس بھرے شہر میں رائیگاں ایک میں — محسنؔ نقوی کی خوبصورت غزل، جس میں تنہائی، ہجر، وصل، یاد اور اپنے وجود کی داخلی کیفیت کو منفرد انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سے
وصی شاہ کی خوبصورت غزل، جس میں محبت، انتظار، خوف، جدائی اور صدیوں سے دل میں بسے ہوئے تعلق کی گہری کیفیت کو نہایت درد انگیز انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←ترے گلے میں جو بانہوں کو ڈال رکھتے ہیں
وصی شاہ کی خوبصورت غزل، جس میں محبت، یاد، ہجر، انتظار اور محبوب سے وابستگی کے جذبات کو نہایت دلنشیں انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا
اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا، دل کا عالم ہے ترے بعد خلاؤں جیسا — محسنؔ نقوی کی درد بھری غزل، جس میں جدائی، خاموشی، یاد اور دل کی بے قراری کو بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ
قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ، اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ — محسنؔ نقوی کی فکر انگیز غزل، جس میں معاشرتی بے حسی، تشدد، ناانصافی اور انسانی المیے کی تلخ تصویر سامنے آتی ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں
راکب مختار کی خوبصورت غزل، جس میں معاشرتی ناانصافی، احتجاج، درد، طنز، انسانی بے بسی اور تلخ حقیقتوں کو نہایت گہرے اور اثر انگیز انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←سبزہ اگے نہ پھول کھلیں کچھ نیا نہ ہو
راکب مختار کی یہ درد انگیز شاعری کربلا، وفا، حضرت عباسؓ، حضرت سکینہؓ، شام غریباں اور حضرت علی اصغرؓ کی یاد کو عقیدت اور غم کے گہرے جذبات کے ساتھ پیش کرتی ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←فن میں یہ معجزہ بھی پیدا کر
فن میں یہ معجزہ بھی پیدا کر، پتھروں سے بشر تراشا کر — محسنؔ نقوی کی فکر انگیز غزل، جس میں خود شناسی، درد، تنہائی، شہر کی ویرانی اور فن کے ذریعے اظہار کی گہری کیفیت نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←اداس راتوں میں تیز کافی کی تلخیوں میں
اداس راتوں، سردیوں، یادوں اور محبت کی کسک سے بھری وصی شاہ کی خوبصورت غزل۔
مکمل شاعری پڑھیں ←وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے
وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے، وہ بھی چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری نکلے — محسنؔ نقوی کی فکر انگیز غزل، جس میں اقتدار، دشمنی، وفاداری، وقت اور انسانی رویوں کی حقیقت کو اجاگر کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←فن کار ہے تو ہاتھ پہ سورج سجا کے لا
فن کار ہے تو ہاتھ پہ سورج سجا کے لا، بجھتا ہوا دیا نہ مقابل ہوا کے لا — محسنؔ نقوی کی پُرجوش اور فکر انگیز غزل، جس میں حوصلے، وفا، مزاحمت، محبت اور اظہار کی کیفیت نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←