شاعری
غزلوں کی دھنک اوڑھ مرے شعلہ بدن تو
غزلوں کی دھنک اوڑھ مرے شعلہ بدن تو، ہے میرا سخن تو مرا موضوع سخن تو — محسنؔ نقوی کی خوبصورت غزل، جس میں محبت، سخن، تخیل، حسن، روشنی اور فن کی دلکش کیفیات نمایاں ہیں۔
مکمل شاعری پڑھیں ←غم کی اس سل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی
وصی شاہ کی خوبصورت غزل، جس میں دل کے غم، محبت، ذہانت، تنہائی اور جذبات کی ان گہرائیوں کو بیان کیا گیا ہے جنہیں صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا
فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا، بدن دریدہ کسی کو لباس کیا دے گا — محسنؔ نقوی کی فکر انگیز غزل، جس میں محرومی، بے حسی، تنہائی، شہر کی دہشت اور انسانی کرب کی گہری کیفیت نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا، تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا — دردؔ کی خوبصورت غزل، جس میں عشق اور محبوب کی یاد کا گہرا احساس نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں، ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں — علامہ اقبالؔ کی مشہور اور فکر انگیز نظم، جو بلند حوصلے اور مسلسل جدوجہد کا پیغام دیتی ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←گنگناتے ہوئے آنچل کی ہوا دے مجھ کو
گنگناتے ہوئے آنچل کی ہوا دے مجھ کو، انگلیاں پھیر کے بالوں میں سلا دے مجھ کو — وصی شاہ کی درد بھری محبت شاعری، جس میں عشق، جدائی، بے بسی، محبوب کی قربت اور بھلا دیے جانے کے کرب کی کیفیت نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر
اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر، حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر — محسنؔ نقوی کی درد بھری غزل، جس میں تنہائی، حالات، یاد اور زندگی کی تلخیوں کو بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا
اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا، دل کا عالم ہے ترے بعد خلاؤں جیسا — محسنؔ نقوی کی درد بھری غزل، جس میں جدائی، خاموشی، یاد اور دل کی بے قراری کو بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←یہ خواہش ہے تحمل سے پڑھوں نہج البلاغہ کو
راکب مختار کے یہ اشعار نہج البلاغہ، حضرت علیؓ سے عقیدت، علم کی عظمت اور نجف سے روحانی وابستگی کے جذبات کو خوبصورت شعری انداز میں پیش کرتے ہیں۔
مکمل شاعری پڑھیں ←ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے، بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے — مرزا غالبؔ کی شہرۂ آفاق غزل، جس میں خواہش، محبت اور انسانی جذبات کی گہری عکاسی ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا، اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا — حبیب جالبؔ کی مشہور نظم، جس میں اقتدار، غرور اور وقت کی بے ثباتی کا اظہار ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←