شاعری
عجیب خوف مسلط تھا کل حویلی پر
عجیب خوف مسلط تھا کل حویلی پر، لہو چراغ جلاتی رہی ہتھیلی پر — محسنؔ نقوی کی درد بھری غزل، جس میں خوف، احتجاج، ہجر، بے وفائی اور تعلقات کی پیچیدہ کیفیت نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←جو اپنی ذات سے باہر نہ آ سکا اب تک
جو اپنی ذات سے باہر نہ آ سکا اب تک، وہ پتھروں کو متاع حواس کیا دے گا — محسنؔ نقوی کی فکر انگیز شاعری، جس میں خود شناسی، محدودیت اور دوسروں پر اثرانداز ہونے کی گہری کیفیت نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←کہاں آ کے رکنے تھے راستے کہاں موڑ تھا اسے بھول جا
کہاں آ کے رکنے تھے راستے کہاں موڑ تھا اسے بھول جا، وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ جو نہیں ملا اسے بھول جا — امجد اسلام امجد کی خوبصورت نظم، جس میں جدائی، حقیقت اور آگے بڑھنے کا احساس نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←دل کی چوکھٹ پہ جو اک دیپ جلا رکھا ہے
وصی شاہ کی درد و انتظار سے بھری خوبصورت غزل، جس میں محبت، جدائی، یاد اور محبوب کے لوٹ آنے کی امید کو نہایت دلنشیں انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←اس شان سے لوٹے ہیں گنوا کر دل و جاں ہم
اس شان سے لوٹے ہیں گنوا کر دل و جاں ہم، اس طور تو ہارے ہوئے لشکر نہیں آتے — محسنؔ نقوی کی درد بھری شاعری، جس میں شکست، جدائی اور دل و جاں کی قربانی کی کیفیت نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے
عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے، میں شرمسار ہوا تیری جستجو کر کے — محسنؔ نقوی کی درد بھری غزل، جس میں جستجو، ہجرت، وفا، قربانی اور درد کی گہری کیفیات بیان کی گئی ہیں۔
مکمل شاعری پڑھیں ←میں کل تنہا تھا خلقت سو رہی تھی
میں کل تنہا تھا خلقت سو رہی تھی، مجھے خود سے بھی وحشت ہو رہی تھی — محسنؔ نقوی کی درد اور تنہائی سے بھرپور غزل، جس میں زندگی، موت، بغاوت، نارسائی اور اندرونی کشمکش کی گہری کیفیت بیان ہوئی ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سے
وصی شاہ کی خوبصورت غزل، جس میں محبت، انتظار، خوف، جدائی اور صدیوں سے دل میں بسے ہوئے تعلق کی گہری کیفیت کو نہایت درد انگیز انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←تمہیں کس نے کہا تھا
تمہیں کس نے کہا تھا، دوپہر کے گرم سورج کی طرف دیکھو — ایک فکر انگیز نظم، جس میں احتیاط، محبت، خطرے، اعتماد اور زندگی کے تلخ تجربات کو علامتی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے، ہم اور بلبل بیتاب گفتگو کرتے — آتشؔ کی خوبصورت غزل، جس میں عشق، آرزو اور جدائی کے جذبات نمایاں ہیں۔
مکمل شاعری پڑھیں ←مری وفا نے کھلائے تھے جو گلاب سارے جھلس گئے ہیں
وصی شاہ کی خوبصورت غزل، جس میں وفا، محبت، جدائی، یادوں، خوابوں اور جلتے ہوئے جذبات کو گہرے استعاروں اور درد بھرے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←حر فوج شام چھوڑ کے شبیر سے ملے
راکب مختار کے یہ اشعار حر کی وفاداری، امام حسینؓ سے وابستگی اور کربلا کے روحانی انقلاب کو مختصر مگر پُرجوش انداز میں بیان کرتے ہیں۔
مکمل شاعری پڑھیں ←