شاعری
یہ کب کہا تھا نظاروں سے خوف آتا ہے
وصی شاہ کی خوبصورت غزل، جس میں اپنوں کے رویوں، تعلقات، سہاروں اور اداس بہاروں سے پیدا ہونے والے خوف کو نہایت گہرے اور منفرد انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی
راکب مختار کی خوبصورت غزل، جس میں محبت، جدائی، تنہائی، وفاداری، سماجی رویوں اور بدلتے ہوئے تعلقات کی تلخ حقیقتوں کو گہرے اور مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں
وصی شاہ کی خوبصورت غزل، جس میں برسوں بعد محبوب کی واپسی، محبت، یاد، تنہائی اور دل میں دوبارہ جاگنے والے جذبات کو نہایت دلنشیں انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے، میرؔ تقی میر کی مشہور غزل، جس میں عشق، درد اور محبوب سے وابستہ جذبات کی گہری عکاسی ملتی ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←جو اس کے سامنے میرا یہ حال آ جائے
وصی شاہ کی خوبصورت غزل، جس میں محبت، یاد، خواب، جدائی اور محبوب کے سامنے دل کی کیفیت کو نہایت دلنشیں انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا
معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا، تیرے دریا پہ مری پیاس کا پہرہ ہوگا — محسنؔ نقوی کی خوبصورت غزل، جس میں محبت، انتظار، یاد، فاصلے اور درد کی گہری کیفیت نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←ہوا نے آ کے مجھے مژدہ ء رہائی دیا
راکب مختار کی یہ غزل آزادی، روشنی، بھوک، خاموشی، بے وفائی اور کربلا کے استعاروں کے ذریعے انسانی احساسات اور معاشرتی حقیقتوں کو گہرے شعری انداز میں پیش کرتی ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا
جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا، اپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا — محسنؔ نقوی کی درد بھری غزل، جس میں جدائی، تنہائی، یاد اور اجڑے ہوئے دل کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←سنا ہے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ہے
سنا ہے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ہے، چلیں گے ہم بھی مگر پیرہن رفو کر کے — محسنؔ نقوی کی درد بھری شاعری، جس میں زخمی دل، جدائی، صبر اور ٹوٹے ہوئے جذبات کی کیفیت نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←ولا کے باغ میں کھلتے ہوئے گل تر نے
راکب مختار کی یہ عقیدت بھری شاعری کربلا، حضرت علی اصغرؓ، حضرت امام حسینؓ، حضرت عباسؓ اور اہلِ بیتؓ سے محبت و وفا کے جذبات کو پُرجوش انداز میں پیش کرتی ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←تمہیں کیا
تمہیں کیا، زندگی جیسی بھی ہے — محسنؔ نقوی کی فکر انگیز نظم، جس میں ظاہری حسن، محبت، تنہائی، بے حسی اور ان لوگوں کے درد کو بیان کیا گیا ہے جو ہجوم میں بھی اکیلے رہ جاتے ہیں۔
مکمل شاعری پڑھیں ←اس کے ہاتھوں سے جو خوشبوئے حنا آتی ہے
وصی شاہ کی خوبصورت غزل، جس میں محبت، وفا، دعا، محبوب کی خوشبو اور جدائی کے درد کو نہایت دلنشیں انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←