شاعری
دل کی چوکھٹ پہ جو اک دیپ جلا رکھا ہے
وصی شاہ کی درد و انتظار سے بھری خوبصورت غزل، جس میں محبت، جدائی، یاد اور محبوب کے لوٹ آنے کی امید کو نہایت دلنشیں انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←جذبے کو زبان دے رہا ہوں
جذبے کو زبان دے رہا ہوں، پتھر کو بھی جان دے رہا ہوں — محسنؔ نقوی کی فکر انگیز غزل، جس میں مزاحمت، احساس، ظلم، بے بسی اور اظہار کی گہری کیفیت نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا، اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا — حبیب جالبؔ کی مشہور نظم، جس میں اقتدار، غرور اور وقت کی بے ثباتی کا اظہار ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←میں جو ہوں جونؔ ایلیا ہوں جناب
میں جو ہوں جونؔ ایلیا ہوں جناب اس کا بے حد لحاظ کیجئے گا
مکمل شاعری پڑھیں ←آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا
آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا، کتنے روٹھے ہوئے ساتھی مجھے یاد آئے ہیں — محسنؔ نقوی کی درد بھری نظم، جس میں تنہائی، جدائی، ماضی کی یادوں، رفاقت اور زندگی کی تلخیوں کی گہری کیفیت نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا، بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں — محسنؔ نقوی کی درد بھری شاعری، جس میں یاد، جدائی اور محبوب کی آنکھوں سے وابستہ ایک خوبصورت منظر کی کیفیت نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←مرے لیے کون سوچتا ہے
مرے لیے کون سوچتا ہے، جدا جدا ہیں مرے قبیلے کے لوگ سارے — محسنؔ نقوی کی فکر انگیز نظم، جس میں تنہائی، بے حسی، خود غرضی، محرومی اور اپنے دکھ کو سمجھنے والے کسی شخص کی تلاش کی گہری کیفیت نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←شاخ عریاں پر کھلا اک پھول اس انداز سے
شاخ عریاں پر کھلا اک پھول اس انداز سے، جس طرح تازہ لہو چمکے نئی تلوار پر — محسنؔ نقوی کی خوبصورت شاعری، جس میں پھول، تازہ لہو اور تلوار کے استعاروں سے حسن، شدت اور زندگی کی کیفیت نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا، تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا — دردؔ کی خوبصورت غزل، جس میں عشق اور محبوب کی یاد کا گہرا احساس نمایاں ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←یہ کب کہا تھا نظاروں سے خوف آتا ہے
وصی شاہ کی خوبصورت غزل، جس میں اپنوں کے رویوں، تعلقات، سہاروں اور اداس بہاروں سے پیدا ہونے والے خوف کو نہایت گہرے اور منفرد انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←ترے بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہے
ترے بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہے، مثال رنگ وہ جھونکا نظر بھی آتا ہے — محسنؔ نقوی کی خوبصورت غزل، جس میں محبت، یاد، وفا اور جدائی کے جذبات کو بیان کیا گیا ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←میں کل تنہا تھا خلقت سو رہی تھی
میں کل تنہا تھا خلقت سو رہی تھی، مجھے خود سے بھی وحشت ہو رہی تھی — محسنؔ نقوی کی درد اور تنہائی سے بھرپور غزل، جس میں زندگی، موت، بغاوت، نارسائی اور اندرونی کشمکش کی گہری کیفیت بیان ہوئی ہے۔
مکمل شاعری پڑھیں ←