وصی شاہ
Wasi Shah
پیدائش: 21 Jan 1973
وصی شاہ اردو کے معروف پاکستانی شاعر، کالم نگار، ڈرامہ نگار اور مصنف ہیں۔ وہ اپنی رومانوی اور جذباتی شاعری کے باعث خاص طور پر نوجوان نسل میں مقبول ہوئے۔ ان کی شاعری میں محبت، جدائی، انتظار، انسانی رشتوں اور روزمرہ زندگی کے جذبات کو سادہ اور دل نشیں انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ وصی شاہ نے شاعری کے ساتھ ساتھ کالم نگاری اور ٹیلی وژن کے لیے بھی کام کیا ہے۔ ان کا اندازِ اظہار عام فہم، نرم اور جذباتی ہے، جس کی وجہ سے ان کا کلام وسیع حلقے میں پسند کیا جاتا ہے۔ ان کی متعدد شعری اور نثری کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور ان کے اشعار سوشل میڈیا، مشاعروں اور ادبی محافل میں بھی نمایاں طور پر مقبول ہیں۔ وصی شاہ کا شمار معاصر اردو شاعری کے ان شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے محبت اور انسانی احساسات کو جدید اور عام فہم انداز میں پیش کیا۔
53
کل شاعری
52
غزل
غزل
میرے اس دیدۂ خوں ناب کے پیچھے پیچھے
میرے اس دیدۂ خوں ناب کے پیچھے پیچھے
ایک بے خوابی ہے اس خواب کے پیچھے پیچھے
عمر بھر چین نہیں پاتے ہیں وہ لوگ کہ جو
بھاگتے رہتے ہیں اسباب کے پیچھے پیچھے
مکمل پڑھیں
ایک بے خوابی ہے اس خواب کے پیچھے پیچھے
عمر بھر چین نہیں پاتے ہیں وہ لوگ کہ جو
بھاگتے رہتے ہیں اسباب کے پیچھے پیچھے
غزل
جھک گئی جب یہ انا تیرے در سفاک پر
جھک گئی جب یہ انا تیرے در سفاک پر
مجھ سے مت پوچھو کہ کیا گزری دل بے باک پر
اس زمیں سے آسماں تک میں بکھرتی ہی گئی
اب نہ سمٹی تو گروں گی ایک دن میں چاک پر
مکمل پڑھیں
مجھ سے مت پوچھو کہ کیا گزری دل بے باک پر
اس زمیں سے آسماں تک میں بکھرتی ہی گئی
اب نہ سمٹی تو گروں گی ایک دن میں چاک پر
غزل
خود سے تو آئے نہ تھے اہل زمیں سنتا ہے
خود سے تو آئے نہ تھے اہل زمیں سنتا ہے
کیوں انہیں بھیج کے اب ان کی نہیں سنتا ہے
یہ اگر سچ ہے تو پھر آج اسے ثابت کر
کہ سنا ہے تو سر عرش بریں سنتا ہے
مکمل پڑھیں
کیوں انہیں بھیج کے اب ان کی نہیں سنتا ہے
یہ اگر سچ ہے تو پھر آج اسے ثابت کر
کہ سنا ہے تو سر عرش بریں سنتا ہے
غزل
میری محفل تھا مری خلوت جاں تھا کیا تھا
میری محفل تھا مری خلوت جاں تھا کیا تھا
وہ عجب شخص تھا اک راز نہاں تھا کیا تھا
بال کھولے ہوئے پھرتی تھیں حسینائیں کچھ
وصل تھا یا کہ جدائی کا سماں تھا کیا تھا
مکمل پڑھیں
وہ عجب شخص تھا اک راز نہاں تھا کیا تھا
بال کھولے ہوئے پھرتی تھیں حسینائیں کچھ
وصل تھا یا کہ جدائی کا سماں تھا کیا تھا
غزل
مری وفا نے کھلائے تھے جو گلاب سارے جھلس گئے ہیں
مری وفا نے کھلائے تھے جو گلاب سارے جھلس گئے ہیں
تمہاری آنکھوں میں جس قدر تھے وہ خواب سارے جھلس گئے ہیں
مری زمیں کو کسی نئے حادثے کا ہے انتظار شاید
گناہ پھلنے لگے ہیں اجر و ثواب سارے جھلس گئے ہیں
مکمل پڑھیں
تمہاری آنکھوں میں جس قدر تھے وہ خواب سارے جھلس گئے ہیں
مری زمیں کو کسی نئے حادثے کا ہے انتظار شاید
گناہ پھلنے لگے ہیں اجر و ثواب سارے جھلس گئے ہیں
غزل
غم کی اس سل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی
غم کی اس سل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی
تو مرے دل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی
مجھ کو تسلیم تری ساری ذہانت لیکن
مجھ سے جاہل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی
مکمل پڑھیں
تو مرے دل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی
مجھ کو تسلیم تری ساری ذہانت لیکن
مجھ سے جاہل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی
غزل
قلم ہو تیغ ہو تیشہ کہ ڈھال مت چھینو
قلم ہو تیغ ہو تیشہ کہ ڈھال مت چھینو
کبھی کسی سے کسی کا کمال مت چھینو
خوشی اسی میں اگر ہے تو ہر خوشی لے لو
یہ دکھ یہ درد یہ حزن و ملال مت چھینو
مکمل پڑھیں
کبھی کسی سے کسی کا کمال مت چھینو
خوشی اسی میں اگر ہے تو ہر خوشی لے لو
یہ دکھ یہ درد یہ حزن و ملال مت چھینو
غزل
مان لے اب بھی مری جان ادا درد نہ چن
مان لے اب بھی مری جان ادا درد نہ چن
کام آتی نہیں پھر کوئی دعا درد نہ چن
اور کچھ دیر میں مجھ کو چلے جانا ہوگا
اور کچھ دیر مجھے خواب دکھا درد نہ چن
مکمل پڑھیں
کام آتی نہیں پھر کوئی دعا درد نہ چن
اور کچھ دیر میں مجھ کو چلے جانا ہوگا
اور کچھ دیر مجھے خواب دکھا درد نہ چن
غزل
تیری جانب اگر چلے ہوتے
تیری جانب اگر چلے ہوتے
ہم نہ یوں در بدر ہوئے ہوتے
ساری دنیا ہے میری مٹھی میں
کون آئے گا اب ترے ہوتے
مکمل پڑھیں
ہم نہ یوں در بدر ہوئے ہوتے
ساری دنیا ہے میری مٹھی میں
کون آئے گا اب ترے ہوتے
غزل
ڈوبتا صاف نظر آیا کنارہ کوئی دوست
ڈوبتا صاف نظر آیا کنارہ کوئی دوست
پھر بھی کشتی سے نہیں ہم نے اتارا کوئی دوست
جب بھی نیکی کا کوئی کام کیا ہے ہم نے
دے دیا رب نے ہمیں آپ سے پیارا کوئی دوست
مکمل پڑھیں
پھر بھی کشتی سے نہیں ہم نے اتارا کوئی دوست
جب بھی نیکی کا کوئی کام کیا ہے ہم نے
دے دیا رب نے ہمیں آپ سے پیارا کوئی دوست
غزل
کتنی زلفیں اڑیں کتنے آنچل اڑے چاند کو کیا خبر
کتنی زلفیں اڑیں کتنے آنچل اڑے چاند کو کیا خبر
کتنا ماتم ہوا کتنے آنسو بہے چاند کو کیا خبر
مدتوں اس کی خواہش سے چلتے رہے ہاتھ آتا نہیں
چاہ میں اس کی پیروں میں ہیں آبلے چاند کو کیا خبر
مکمل پڑھیں
کتنا ماتم ہوا کتنے آنسو بہے چاند کو کیا خبر
مدتوں اس کی خواہش سے چلتے رہے ہاتھ آتا نہیں
چاہ میں اس کی پیروں میں ہیں آبلے چاند کو کیا خبر
غزل
ہم نے جو دیپ جلائے ہیں تری گلیوں میں
ہم نے جو دیپ جلائے ہیں تری گلیوں میں
اپنے کچھ خواب سجائے ہیں تری گلیوں میں
جانے یہ عشق ہے یا کوئی کرامت اپنی
چاند لے کر چلے آئے ہیں تری گلیوں میں
مکمل پڑھیں
اپنے کچھ خواب سجائے ہیں تری گلیوں میں
جانے یہ عشق ہے یا کوئی کرامت اپنی
چاند لے کر چلے آئے ہیں تری گلیوں میں
غزل
گلی میں درد کے پرزے تلاش کرتی تھی
گلی میں درد کے پرزے تلاش کرتی تھی
مرے خطوط کے ٹکڑے تلاش کرتی تھی
کہاں گئی وہ کنواری اداس بی آپا
جو گاؤں گاؤں میں رشتے تلاش کرتی تھی
مکمل پڑھیں
مرے خطوط کے ٹکڑے تلاش کرتی تھی
کہاں گئی وہ کنواری اداس بی آپا
جو گاؤں گاؤں میں رشتے تلاش کرتی تھی
غزل
فلک پہ چاند کے ہالے بھی سوگ کرتے ہیں
فلک پہ چاند کے ہالے بھی سوگ کرتے ہیں
جو تو نہیں تو اجالے بھی سوگ کرتے ہیں
تمہارے ہاتھ کی چوڑی بھی بین کرتی ہے
ہمارے ہونٹ کے تالے بھی سوگ کرتے ہیں
مکمل پڑھیں
جو تو نہیں تو اجالے بھی سوگ کرتے ہیں
تمہارے ہاتھ کی چوڑی بھی بین کرتی ہے
ہمارے ہونٹ کے تالے بھی سوگ کرتے ہیں
غزل
دل ہوش سے بیگانہ بیگانے کو کیا کہئے
دل ہوش سے بیگانہ بیگانے کو کیا کہئے
چپ رہنا ہی بہتر ہے دیوانے کو کیا کہئے
کچھ بھی تو نہیں دیکھا اور کوچ کی تیاری
یوں آنے سے کیا حاصل یوں جانے کو کیا کہئے
مکمل پڑھیں
چپ رہنا ہی بہتر ہے دیوانے کو کیا کہئے
کچھ بھی تو نہیں دیکھا اور کوچ کی تیاری
یوں آنے سے کیا حاصل یوں جانے کو کیا کہئے
غزل
میری آنکھوں کے سمندر میں جلن کیسی ہے
میری آنکھوں کے سمندر میں جلن کیسی ہے
آج پھر دل کو تڑپنے کی لگن کیسی ہے
اب کسی چھت پہ چراغوں کی قطاریں بھی نہیں
اب ترے شہر کی گلیوں میں گھٹن کیسی ہے
مکمل پڑھیں
آج پھر دل کو تڑپنے کی لگن کیسی ہے
اب کسی چھت پہ چراغوں کی قطاریں بھی نہیں
اب ترے شہر کی گلیوں میں گھٹن کیسی ہے
غزل
کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سے
کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سے
میرے قدموں پہ مرا سر ہے کئی صدیوں سے
خوف رہتا ہے نہ سیلاب کہیں لے جائے
میری پلکوں پہ ترا گھر ہے کئی صدیوں سے
مکمل پڑھیں
میرے قدموں پہ مرا سر ہے کئی صدیوں سے
خوف رہتا ہے نہ سیلاب کہیں لے جائے
میری پلکوں پہ ترا گھر ہے کئی صدیوں سے
غزل
کس قدر ظلم ڈھایا کرتے تھے
کس قدر ظلم ڈھایا کرتے تھے
یہ جو تم بھول جایا کرتے تھے
کس کا اب ہاتھ رکھ کے سینے پر
دل کی دھڑکن سنایا کرتے تھے
مکمل پڑھیں
یہ جو تم بھول جایا کرتے تھے
کس کا اب ہاتھ رکھ کے سینے پر
دل کی دھڑکن سنایا کرتے تھے
غزل
بھنور کی گود میں جیسے کنارہ ساتھ رہتا ہے
بھنور کی گود میں جیسے کنارہ ساتھ رہتا ہے
کچھ ایسے ہی تمہارا اور ہمارا ساتھ رہتا ہے
محبت ہو کہ نفرت ہو اسی سے مشورہ ہوگا
مری ہر کیفیت میں استخارہ ساتھ ہوتا ہے
مکمل پڑھیں
کچھ ایسے ہی تمہارا اور ہمارا ساتھ رہتا ہے
محبت ہو کہ نفرت ہو اسی سے مشورہ ہوگا
مری ہر کیفیت میں استخارہ ساتھ ہوتا ہے
غزل
یہ کب کہا تھا نظاروں سے خوف آتا ہے
یہ کب کہا تھا نظاروں سے خوف آتا ہے
مجھے تو چاند ستاروں سے خوف آتا ہے
میں دشمنوں کے کسی وار سے نہیں ڈرتا
مجھے تو اپنے ہی یاروں سے خوف آتا ہے
مکمل پڑھیں
مجھے تو چاند ستاروں سے خوف آتا ہے
میں دشمنوں کے کسی وار سے نہیں ڈرتا
مجھے تو اپنے ہی یاروں سے خوف آتا ہے
غزل
کیا کہیں تجھ سے کہ کس کس کے کرم ہیں ہم ہیں
کیا کہیں تجھ سے کہ کس کس کے کرم ہیں ہم ہیں
کچھ ترے کچھ تری دنیا کے ستم ہیں ہم ہیں
تو نے پوچھا ہے تو احوال بتا دیتے ہیں
بس تری یاد ہے اور آخری دم ہیں ہم ہیں
مکمل پڑھیں
کچھ ترے کچھ تری دنیا کے ستم ہیں ہم ہیں
تو نے پوچھا ہے تو احوال بتا دیتے ہیں
بس تری یاد ہے اور آخری دم ہیں ہم ہیں
غزل
جو اس کے سامنے میرا یہ حال آ جائے
جو اس کے سامنے میرا یہ حال آ جائے
تو دکھ سے اور بھی اس پر جمال آ جائے
مرا خیال بھی گھنگرو پہن کے ناچے گا
اگر خیال کو تیرا خیال آ جائے
مکمل پڑھیں
تو دکھ سے اور بھی اس پر جمال آ جائے
مرا خیال بھی گھنگرو پہن کے ناچے گا
اگر خیال کو تیرا خیال آ جائے
غزل
اس کے ہاتھوں سے جو خوشبوئے حنا آتی ہے
اس کے ہاتھوں سے جو خوشبوئے حنا آتی ہے
ایسا لگتا ہے کہ جنت سے ہوا آتی ہے
چومنے دار کو کس دھج سے چلا ہے کوئی
آج کس ناز سے مقتل میں قضا آتی ہے
مکمل پڑھیں
ایسا لگتا ہے کہ جنت سے ہوا آتی ہے
چومنے دار کو کس دھج سے چلا ہے کوئی
آج کس ناز سے مقتل میں قضا آتی ہے
غزل
آنکھوں میں چبھ گئیں تری یادوں کی کرچیاں
آنکھوں میں چبھ گئیں تری یادوں کی کرچیاں
کاندھوں پہ غم کی شال ہے اور چاند رات ہے
دل توڑ کے خموش نظاروں کا کیا ملا
شبنم کا یہ سوال ہے اور چاند رات ہے
مکمل پڑھیں
کاندھوں پہ غم کی شال ہے اور چاند رات ہے
دل توڑ کے خموش نظاروں کا کیا ملا
شبنم کا یہ سوال ہے اور چاند رات ہے
غزل
دل میں بکھرے ہوئے جالوں سے پریشان نہ ہو
دل میں بکھرے ہوئے جالوں سے پریشان نہ ہو
میرے گزرے ہوئے سالوں سے پریشان نہ ہو
میری آواز کی تلخی کو گوارہ کر لے
میرے گستاخ سوالوں سے پریشان نہ ہو
مکمل پڑھیں
میرے گزرے ہوئے سالوں سے پریشان نہ ہو
میری آواز کی تلخی کو گوارہ کر لے
میرے گستاخ سوالوں سے پریشان نہ ہو
غزل
دکھ درد کے ماروں سے مرا ذکر نہ کرنا
دکھ درد کے ماروں سے مرا ذکر نہ کرنا
گھر جاؤ تو یاروں سے مرا ذکر نہ کرنا
وہ ضبط نہ کر پائیں گی آنکھوں کے سمندر
تم راہ گزاروں سے مرا ذکر نہ کرنا
مکمل پڑھیں
گھر جاؤ تو یاروں سے مرا ذکر نہ کرنا
وہ ضبط نہ کر پائیں گی آنکھوں کے سمندر
تم راہ گزاروں سے مرا ذکر نہ کرنا
غزل
میں اس حصار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
میں اس حصار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
تمہارے پیار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
تری گلی کے علاوہ بھی اور قریے ہیں
جو اس دیار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
مکمل پڑھیں
تمہارے پیار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
تری گلی کے علاوہ بھی اور قریے ہیں
جو اس دیار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
غزل
تو میں بھی خوش ہوں کوئی اس سے جا کے کہہ دینا
تو میں بھی خوش ہوں کوئی اس سے جا کے کہہ دینا
اگر وہ خوش ہے مجھے بے قرار کرتے ہوئے
تمہیں خبر ہی نہیں ہے کہ کوئی ٹوٹ گیا
محبتوں کو بہت پائیدار کرتے ہوئے
مکمل پڑھیں
اگر وہ خوش ہے مجھے بے قرار کرتے ہوئے
تمہیں خبر ہی نہیں ہے کہ کوئی ٹوٹ گیا
محبتوں کو بہت پائیدار کرتے ہوئے
اپنا تو چاہتوں میں یہی اک اصول ہے
اپنا تو چاہتوں میں یہی اک اصول ہے
تیرا بھلا برا ہمیں سب کچھ قبول ہے
یہ عمر بھر کا جاگنا بیکار ہی نہ جائے
تو ناں ملا تو ساری ریاضت فضول ہے
مکمل پڑھیں
تیرا بھلا برا ہمیں سب کچھ قبول ہے
یہ عمر بھر کا جاگنا بیکار ہی نہ جائے
تو ناں ملا تو ساری ریاضت فضول ہے
غزل
اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں
اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں
دھوپ اتری ہوئی ہے بالوں میں
تم مری آنکھ کے سمندر میں
تم مری روح کے اجالوں میں
مکمل پڑھیں
دھوپ اتری ہوئی ہے بالوں میں
تم مری آنکھ کے سمندر میں
تم مری روح کے اجالوں میں
غزل
بھول سکتا ہے انہیں کوئی بھی ایسے کیسے
بھول سکتا ہے انہیں کوئی بھی ایسے کیسے
رفتگاں دل میں بسا کرتے ہیں کیسے کیسے
جان لے کر بھی اگر خوش نہیں ہونے والا
کوئی بتلائے وہ پھر مانے گا ویسے کیسے
مکمل پڑھیں
رفتگاں دل میں بسا کرتے ہیں کیسے کیسے
جان لے کر بھی اگر خوش نہیں ہونے والا
کوئی بتلائے وہ پھر مانے گا ویسے کیسے
غزل
آج ہمیں یہ بات سمجھ میں آئی ہے
آج ہمیں یہ بات سمجھ میں آئی ہے
تم موسم ہو اور موسم ہرجائی ہے
تو نے کیسے موڑ پہ چھوڑ دیا مجھ کو
دل کی بات چھپاؤں تو رسوائی ہے
مکمل پڑھیں
تم موسم ہو اور موسم ہرجائی ہے
تو نے کیسے موڑ پہ چھوڑ دیا مجھ کو
دل کی بات چھپاؤں تو رسوائی ہے
غزل
ترے فراق کے لمحے شمار کرتے ہوئے
ترے فراق کے لمحے شمار کرتے ہوئے
بکھر گئے ہیں ترا انتظار کرتے ہوئے
تمہیں خبر ہی نہیں ہے کہ کوئی ٹوٹ گیا
محبتوں کو بہت پائیدار کرتے ہوئے
مکمل پڑھیں
بکھر گئے ہیں ترا انتظار کرتے ہوئے
تمہیں خبر ہی نہیں ہے کہ کوئی ٹوٹ گیا
محبتوں کو بہت پائیدار کرتے ہوئے
غزل
میں ہوں ترا خیال ہے اور چاند رات ہے
میں ہوں ترا خیال ہے اور چاند رات ہے
دل درد سے نڈھال ہے اور چاند رات ہے
آنکھوں میں چبھ گئیں تری یادوں کی کرچیاں
کاندھوں پہ غم کی شال ہے اور چاند رات ہے
مکمل پڑھیں
دل درد سے نڈھال ہے اور چاند رات ہے
آنکھوں میں چبھ گئیں تری یادوں کی کرچیاں
کاندھوں پہ غم کی شال ہے اور چاند رات ہے
غزل
ہزاروں دکھ پڑیں سہنا محبت مر نہیں سکتی
ہزاروں دکھ پڑیں سہنا محبت مر نہیں سکتی
ہے تم سے بس یہی کہنا محبت مر نہیں سکتی
ترا ہر بار میرے خط کو پڑھنا اور رو دینا
مرا ہر بار لکھ دینا محبت مر نہیں سکتی
مکمل پڑھیں
ہے تم سے بس یہی کہنا محبت مر نہیں سکتی
ترا ہر بار میرے خط کو پڑھنا اور رو دینا
مرا ہر بار لکھ دینا محبت مر نہیں سکتی
غزل
ترے گلے میں جو بانہوں کو ڈال رکھتے ہیں
ترے گلے میں جو بانہوں کو ڈال رکھتے ہیں
تجھے منانے کا کیسا کمال رکھتے ہیں
تجھے خبر ہے تجھے سوچنے کی خاطر ہم
بہت سے کام مقدر پہ ٹال رکھتے ہیں
مکمل پڑھیں
تجھے منانے کا کیسا کمال رکھتے ہیں
تجھے خبر ہے تجھے سوچنے کی خاطر ہم
بہت سے کام مقدر پہ ٹال رکھتے ہیں
غزل
ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے
ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے
کہ اشک روکنا تم سے محال ہونا ہے
ہر ایک لب پہ ہے میری وفا کے افسانے
ترے ستم کو ابھی لا زوال ہونا ہے
مکمل پڑھیں
کہ اشک روکنا تم سے محال ہونا ہے
ہر ایک لب پہ ہے میری وفا کے افسانے
ترے ستم کو ابھی لا زوال ہونا ہے
غزل
یہ جو چہرے سے تمہیں لگتے ہیں بیمار سے ہم
یہ جو چہرے سے تمہیں لگتے ہیں بیمار سے ہم
خوب روئے ہیں لپٹ کر در و دیوار سے ہم
یار کی آنکھ میں نفرت نے ہمیں مار دیا
مرنے والے تھے کہاں یار کی تلوار سے ہم
مکمل پڑھیں
خوب روئے ہیں لپٹ کر در و دیوار سے ہم
یار کی آنکھ میں نفرت نے ہمیں مار دیا
مرنے والے تھے کہاں یار کی تلوار سے ہم
غزل
دکھ درد میں ہمیشہ نکالے تمہارے خط
دکھ درد میں ہمیشہ نکالے تمہارے خط
اور مل گئی خوشی تو اچھالے تمہارے خط
سب چوڑیاں تمہاری سمندر کو سونپ دیں
اور کر دیے ہوا کے حوالے تمہارے خط
مکمل پڑھیں
اور مل گئی خوشی تو اچھالے تمہارے خط
سب چوڑیاں تمہاری سمندر کو سونپ دیں
اور کر دیے ہوا کے حوالے تمہارے خط
غزل
دل کی چوکھٹ پہ جو اک دیپ جلا رکھا ہے
دل کی چوکھٹ پہ جو اک دیپ جلا رکھا ہے
تیرے لوٹ آنے کا امکان سجا رکھا ہے
سانس تک بھی نہیں لیتے ہیں تجھے سوچتے وقت
ہم نے اس کام کو بھی کل پہ اٹھا رکھا ہے
مکمل پڑھیں
تیرے لوٹ آنے کا امکان سجا رکھا ہے
سانس تک بھی نہیں لیتے ہیں تجھے سوچتے وقت
ہم نے اس کام کو بھی کل پہ اٹھا رکھا ہے
غزل
بارہا تجھ سے کہا تھا مجھے اپنا نہ بنا
بارہا تجھ سے کہا تھا مجھے اپنا نہ بنا
اب مجھے چھوڑ کے دنیا میں تماشہ نہ بنا
اک یہی دکھ مرے مرنے کے لیے کافی ہے
جیسا تو چاہتا تھا مجھ کو میں ویسا نہ بنا
مکمل پڑھیں
اب مجھے چھوڑ کے دنیا میں تماشہ نہ بنا
اک یہی دکھ مرے مرنے کے لیے کافی ہے
جیسا تو چاہتا تھا مجھ کو میں ویسا نہ بنا
غزل
سوچتا ہوں کہ اسے نیند بھی آتی ہوگی
سوچتا ہوں کہ اسے نیند بھی آتی ہوگی
یا مری طرح فقط اشک بہاتی ہوگی
وہ مری شکل مرا نام بھلانے والی
اپنی تصویر سے کیا آنکھ ملاتی ہوگی
مکمل پڑھیں
یا مری طرح فقط اشک بہاتی ہوگی
وہ مری شکل مرا نام بھلانے والی
اپنی تصویر سے کیا آنکھ ملاتی ہوگی
غزل
اداس راتوں میں تیز کافی کی تلخیوں میں
اداس راتوں میں تیز کافی کی تلخیوں میں
وہ کچھ زیادہ ہی یاد آتا ہے سردیوں میں
مجھے اجازت نہیں ہے اس کو پکارنے کی
جو گونجتا ہے لہو میں سینے کی دھڑکنوں میں
مکمل پڑھیں
وہ کچھ زیادہ ہی یاد آتا ہے سردیوں میں
مجھے اجازت نہیں ہے اس کو پکارنے کی
جو گونجتا ہے لہو میں سینے کی دھڑکنوں میں
غزل
تم مری آنکھ کے تیور نہ بھلا پاؤ گے
تم مری آنکھ کے تیور نہ بھلا پاؤ گے
ان کہی بات کو سمجھوگے تو یاد آؤں گا
ہم نے خوشیوں کی طرح دکھ بھی اکٹھے دیکھے
صفحۂ زیست کو پلٹو گے تو یاد آؤں گا
مکمل پڑھیں
ان کہی بات کو سمجھوگے تو یاد آؤں گا
ہم نے خوشیوں کی طرح دکھ بھی اکٹھے دیکھے
صفحۂ زیست کو پلٹو گے تو یاد آؤں گا
غزل
گنگناتے ہوئے آنچل کی ہوا دے مجھ کو
گنگناتے ہوئے آنچل کی ہوا دے مجھ کو
انگلیاں پھیر کے بالوں میں سلا دے مجھ کو
جس طرح فالتو گلدان پڑے رہتے ہیں
اپنے گھر کے کسی کونے سے لگا دے مجھ کو
مکمل پڑھیں
انگلیاں پھیر کے بالوں میں سلا دے مجھ کو
جس طرح فالتو گلدان پڑے رہتے ہیں
اپنے گھر کے کسی کونے سے لگا دے مجھ کو
غزل
اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہوگا
اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہوگا
ایک دن آئے گا وہ شخص ہمارا ہوگا
زندگی اب کے مرا نام نہ شامل کرنا
گر یہ طے ہے کہ یہی کھیل دوبارہ ہوگا
مکمل پڑھیں
ایک دن آئے گا وہ شخص ہمارا ہوگا
زندگی اب کے مرا نام نہ شامل کرنا
گر یہ طے ہے کہ یہی کھیل دوبارہ ہوگا
غزل
دیار غیر میں کیسے تجھے صدا دیتے
دیار غیر میں کیسے تجھے صدا دیتے
تو مل بھی جاتا تو آخر تجھے گنوا دیتے
تمہی نے ہم کو سنایا نہ اپنا دکھ ورنہ
دعا وہ کرتے کہ ہم آسماں ہلا دیتے
مکمل پڑھیں
تو مل بھی جاتا تو آخر تجھے گنوا دیتے
تمہی نے ہم کو سنایا نہ اپنا دکھ ورنہ
دعا وہ کرتے کہ ہم آسماں ہلا دیتے
غزل
کسی کی آنکھ سے سپنے چرا کر کچھ نہیں ملتا
کسی کی آنکھ سے سپنے چرا کر کچھ نہیں ملتا
منڈیروں سے چراغوں کو بجھا کر کچھ نہیں ملتا
ہماری سوچ کی پرواز کو روکے نہیں کوئی
نئے افلاک پہ پہرے بٹھا کر کچھ نہیں ملتا
مکمل پڑھیں
منڈیروں سے چراغوں کو بجھا کر کچھ نہیں ملتا
ہماری سوچ کی پرواز کو روکے نہیں کوئی
نئے افلاک پہ پہرے بٹھا کر کچھ نہیں ملتا
غزل
یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے
یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے
اے میری ماں مرا سارا مقام تم سے ہے
تمہارے دم سے ہیں میرے لہو میں کھلتے گلاب
مرے وجود کا سارا نظام تم سے ہے
مکمل پڑھیں
اے میری ماں مرا سارا مقام تم سے ہے
تمہارے دم سے ہیں میرے لہو میں کھلتے گلاب
مرے وجود کا سارا نظام تم سے ہے
غزل
آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتی
آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتی
یادوں سے کوئی رات جو خالی نہیں جاتی
اب عمر نہ موسم نہ وہ رستے کہ وہ پلٹے
اس دل کی مگر خام خیالی نہیں جاتی
مکمل پڑھیں
یادوں سے کوئی رات جو خالی نہیں جاتی
اب عمر نہ موسم نہ وہ رستے کہ وہ پلٹے
اس دل کی مگر خام خیالی نہیں جاتی
غزل
سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تری آنکھوں کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تمہارا نام لکھنے کی اجازت چھن گئی جب سے
کوئی بھی لفظ لکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
مکمل پڑھیں
تری آنکھوں کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تمہارا نام لکھنے کی اجازت چھن گئی جب سے
کوئی بھی لفظ لکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
غزل
باندھ لیں ہاتھ پہ سینے پہ سجا لیں تم کو
باندھ لیں ہاتھ پہ سینے پہ سجا لیں تم کو
جی میں آتا ہے کہ تعویذ بنا لیں تم کو
پھر تمہیں روز سنواریں تمہیں بڑھتا دیکھیں
کیوں نہ آنگن میں چنبیلی سا لگا لیں تم کو
مکمل پڑھیں
جی میں آتا ہے کہ تعویذ بنا لیں تم کو
پھر تمہیں روز سنواریں تمہیں بڑھتا دیکھیں
کیوں نہ آنگن میں چنبیلی سا لگا لیں تم کو
غزل
اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو
اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو
میں کہ صدیوں سے ادھورا ہوں مکمل کر دو
نہ تمہیں ہوش رہے اور نہ مجھے ہوش رہے
اس قدر ٹوٹ کے چاہو مجھے پاگل کر دو
مکمل پڑھیں
میں کہ صدیوں سے ادھورا ہوں مکمل کر دو
نہ تمہیں ہوش رہے اور نہ مجھے ہوش رہے
اس قدر ٹوٹ کے چاہو مجھے پاگل کر دو