Wednesday, October 28, 2026
FB
وصی شاہ

وصی شاہ

Wasi Shah
پیدائش: 21 Jan 1973
وصی شاہ اردو کے معروف پاکستانی شاعر، کالم نگار، ڈرامہ نگار اور مصنف ہیں۔ وہ اپنی رومانوی اور جذباتی شاعری کے باعث خاص طور پر نوجوان نسل میں مقبول ہوئے۔ ان کی شاعری میں محبت، جدائی، انتظار، انسانی رشتوں اور روزمرہ زندگی کے جذبات کو سادہ اور دل نشیں انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ وصی شاہ نے شاعری کے ساتھ ساتھ کالم نگاری اور ٹیلی وژن کے لیے بھی کام کیا ہے۔ ان کا اندازِ اظہار عام فہم، نرم اور جذباتی ہے، جس کی وجہ سے ان کا کلام وسیع حلقے میں پسند کیا جاتا ہے۔ ان کی متعدد شعری اور نثری کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور ان کے اشعار سوشل میڈیا، مشاعروں اور ادبی محافل میں بھی نمایاں طور پر مقبول ہیں۔ وصی شاہ کا شمار معاصر اردو شاعری کے ان شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے محبت اور انسانی احساسات کو جدید اور عام فہم انداز میں پیش کیا۔
53 کل شاعری
52 غزل
غزل

میرے اس دیدۂ خوں ناب کے پیچھے پیچھے

میرے اس دیدۂ خوں ناب کے پیچھے پیچھے
ایک بے خوابی ہے اس خواب کے پیچھے پیچھے
عمر بھر چین نہیں پاتے ہیں وہ لوگ کہ جو
بھاگتے رہتے ہیں اسباب کے پیچھے پیچھے
مکمل پڑھیں
33 13 Sep 2026
غزل

جھک گئی جب یہ انا تیرے در سفاک پر

جھک گئی جب یہ انا تیرے در‌‌ سفاک پر
مجھ سے مت پوچھو کہ کیا گزری دل بے باک پر
اس زمیں سے آسماں تک میں بکھرتی ہی گئی
اب نہ سمٹی تو گروں گی ایک دن میں چاک پر
مکمل پڑھیں
35 13 Sep 2026
غزل

خود سے تو آئے نہ تھے اہل زمیں سنتا ہے

خود سے تو آئے نہ تھے اہل زمیں سنتا ہے
کیوں انہیں بھیج کے اب ان کی نہیں سنتا ہے
یہ اگر سچ ہے تو پھر آج اسے ثابت کر
کہ سنا ہے تو سر عرش بریں سنتا ہے
مکمل پڑھیں
31 13 Sep 2026
غزل

میری محفل تھا مری خلوت جاں تھا کیا تھا

میری محفل تھا مری خلوت جاں تھا کیا تھا
وہ عجب شخص تھا اک راز نہاں تھا کیا تھا
بال کھولے ہوئے پھرتی تھیں حسینائیں کچھ
وصل تھا یا کہ جدائی کا سماں تھا کیا تھا
مکمل پڑھیں
32 13 Sep 2026
غزل

مری وفا نے کھلائے تھے جو گلاب سارے جھلس گئے ہیں

مری وفا نے کھلائے تھے جو گلاب سارے جھلس گئے ہیں
تمہاری آنکھوں میں جس قدر تھے وہ خواب سارے جھلس گئے ہیں
مری زمیں کو کسی نئے حادثے کا ہے انتظار شاید
گناہ پھلنے لگے ہیں اجر و ثواب سارے جھلس گئے ہیں
مکمل پڑھیں
31 13 Sep 2026
غزل

غم کی اس سل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی

غم کی اس سل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی
تو مرے دل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی
مجھ کو تسلیم تری ساری ذہانت لیکن
مجھ سے جاہل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی
مکمل پڑھیں
32 13 Sep 2026
غزل

قلم ہو تیغ ہو تیشہ کہ ڈھال مت چھینو

قلم ہو تیغ ہو تیشہ کہ ڈھال مت چھینو
کبھی کسی سے کسی کا کمال مت چھینو
خوشی اسی میں اگر ہے تو ہر خوشی لے لو
یہ دکھ یہ درد یہ حزن و ملال مت چھینو
مکمل پڑھیں
30 13 Sep 2026
غزل

مان لے اب بھی مری جان ادا درد نہ چن

مان لے اب بھی مری جان ادا درد نہ چن
کام آتی نہیں پھر کوئی دعا درد نہ چن
اور کچھ دیر میں مجھ کو چلے جانا ہوگا
اور کچھ دیر مجھے خواب دکھا درد نہ چن
مکمل پڑھیں
34 13 Sep 2026
غزل

تیری جانب اگر چلے ہوتے

تیری جانب اگر چلے ہوتے
ہم نہ یوں در بدر ہوئے ہوتے
ساری دنیا ہے میری مٹھی میں
کون آئے گا اب ترے ہوتے
مکمل پڑھیں
33 13 Sep 2026
غزل

ڈوبتا صاف نظر آیا کنارہ کوئی دوست

ڈوبتا صاف نظر آیا کنارہ کوئی دوست
پھر بھی کشتی سے نہیں ہم نے اتارا کوئی دوست
جب بھی نیکی کا کوئی کام کیا ہے ہم نے
دے دیا رب نے ہمیں آپ سے پیارا کوئی دوست
مکمل پڑھیں
24 13 Sep 2026
غزل

کتنی زلفیں اڑیں کتنے آنچل اڑے چاند کو کیا خبر

کتنی زلفیں اڑیں کتنے آنچل اڑے چاند کو کیا خبر
کتنا ماتم ہوا کتنے آنسو بہے چاند کو کیا خبر
مدتوں اس کی خواہش سے چلتے رہے ہاتھ آتا نہیں
چاہ میں اس کی پیروں میں ہیں آبلے چاند کو کیا خبر
مکمل پڑھیں
30 13 Sep 2026
غزل

ہم نے جو دیپ جلائے ہیں تری گلیوں میں

ہم نے جو دیپ جلائے ہیں تری گلیوں میں
اپنے کچھ خواب سجائے ہیں تری گلیوں میں
جانے یہ عشق ہے یا کوئی کرامت اپنی
چاند لے کر چلے آئے ہیں تری گلیوں میں
مکمل پڑھیں
30 13 Sep 2026
غزل

گلی میں درد کے پرزے تلاش کرتی تھی

گلی میں درد کے پرزے تلاش کرتی تھی
مرے خطوط کے ٹکڑے تلاش کرتی تھی
کہاں گئی وہ کنواری اداس بی آپا
جو گاؤں گاؤں میں رشتے تلاش کرتی تھی
مکمل پڑھیں
29 13 Sep 2026
غزل

فلک پہ چاند کے ہالے بھی سوگ کرتے ہیں

فلک پہ چاند کے ہالے بھی سوگ کرتے ہیں
جو تو نہیں تو اجالے بھی سوگ کرتے ہیں
تمہارے ہاتھ کی چوڑی بھی بین کرتی ہے
ہمارے ہونٹ کے تالے بھی سوگ کرتے ہیں
مکمل پڑھیں
31 13 Sep 2026
غزل

دل ہوش سے بیگانہ بیگانے کو کیا کہئے

دل ہوش سے بیگانہ بیگانے کو کیا کہئے
چپ رہنا ہی بہتر ہے دیوانے کو کیا کہئے
کچھ بھی تو نہیں دیکھا اور کوچ کی تیاری
یوں آنے سے کیا حاصل یوں جانے کو کیا کہئے
مکمل پڑھیں
28 13 Sep 2026
غزل

میری آنکھوں کے سمندر میں جلن کیسی ہے

میری آنکھوں کے سمندر میں جلن کیسی ہے
آج پھر دل کو تڑپنے کی لگن کیسی ہے
اب کسی چھت پہ چراغوں کی قطاریں بھی نہیں
اب ترے شہر کی گلیوں میں گھٹن کیسی ہے
مکمل پڑھیں
29 13 Sep 2026
غزل

کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سے

کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سے
میرے قدموں پہ مرا سر ہے کئی صدیوں سے
خوف رہتا ہے نہ سیلاب کہیں لے جائے
میری پلکوں پہ ترا گھر ہے کئی صدیوں سے
مکمل پڑھیں
35 13 Sep 2026
غزل

کس قدر ظلم ڈھایا کرتے تھے

کس قدر ظلم ڈھایا کرتے تھے
یہ جو تم بھول جایا کرتے تھے
کس کا اب ہاتھ رکھ کے سینے پر
دل کی دھڑکن سنایا کرتے تھے
مکمل پڑھیں
28 13 Sep 2026
غزل

بھنور کی گود میں جیسے کنارہ ساتھ رہتا ہے

بھنور کی گود میں جیسے کنارہ ساتھ رہتا ہے
کچھ ایسے ہی تمہارا اور ہمارا ساتھ رہتا ہے
محبت ہو کہ نفرت ہو اسی سے مشورہ ہوگا
مری ہر کیفیت میں استخارہ ساتھ ہوتا ہے
مکمل پڑھیں
30 13 Sep 2026
غزل

یہ کب کہا تھا نظاروں سے خوف آتا ہے

یہ کب کہا تھا نظاروں سے خوف آتا ہے
مجھے تو چاند ستاروں سے خوف آتا ہے
میں دشمنوں کے کسی وار سے نہیں ڈرتا
مجھے تو اپنے ہی یاروں سے خوف آتا ہے
مکمل پڑھیں
25 13 Sep 2026
غزل

کیا کہیں تجھ سے کہ کس کس کے کرم ہیں ہم ہیں

کیا کہیں تجھ سے کہ کس کس کے کرم ہیں ہم ہیں
کچھ ترے کچھ تری دنیا کے ستم ہیں ہم ہیں
تو نے پوچھا ہے تو احوال بتا دیتے ہیں
بس تری یاد ہے اور آخری دم ہیں ہم ہیں
مکمل پڑھیں
32 13 Sep 2026
غزل

جو اس کے سامنے میرا یہ حال آ جائے

جو اس کے سامنے میرا یہ حال آ جائے
تو دکھ سے اور بھی اس پر جمال آ جائے
مرا خیال بھی گھنگرو پہن کے ناچے گا
اگر خیال کو تیرا خیال آ جائے
مکمل پڑھیں
29 13 Sep 2026
غزل

اس کے ہاتھوں سے جو خوشبوئے حنا آتی ہے

اس کے ہاتھوں سے جو خوشبوئے حنا آتی ہے
ایسا لگتا ہے کہ جنت سے ہوا آتی ہے
چومنے دار کو کس دھج سے چلا ہے کوئی
آج کس ناز سے مقتل میں قضا آتی ہے
مکمل پڑھیں
31 13 Sep 2026
غزل

آنکھوں میں چبھ گئیں تری یادوں کی کرچیاں

آنکھوں میں چبھ گئیں تری یادوں کی کرچیاں
کاندھوں پہ غم کی شال ہے اور چاند رات ہے
دل توڑ کے خموش نظاروں کا کیا ملا
شبنم کا یہ سوال ہے اور چاند رات ہے
مکمل پڑھیں
32 13 Sep 2026
غزل

دل میں بکھرے ہوئے جالوں سے پریشان نہ ہو

دل میں بکھرے ہوئے جالوں سے پریشان نہ ہو
میرے گزرے ہوئے سالوں سے پریشان نہ ہو
میری آواز کی تلخی کو گوارہ کر لے
میرے گستاخ سوالوں سے پریشان نہ ہو
مکمل پڑھیں
32 13 Sep 2026
غزل

دکھ درد کے ماروں سے مرا ذکر نہ کرنا

دکھ درد کے ماروں سے مرا ذکر نہ کرنا
گھر جاؤ تو یاروں سے مرا ذکر نہ کرنا
وہ ضبط نہ کر پائیں گی آنکھوں کے سمندر
تم راہ گزاروں سے مرا ذکر نہ کرنا
مکمل پڑھیں
33 13 Sep 2026
غزل

میں اس حصار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں

میں اس حصار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
تمہارے پیار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
تری گلی کے علاوہ بھی اور قریے ہیں
جو اس دیار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
مکمل پڑھیں
30 13 Sep 2026
غزل

تو میں بھی خوش ہوں کوئی اس سے جا کے کہہ دینا

تو میں بھی خوش ہوں کوئی اس سے جا کے کہہ دینا
اگر وہ خوش ہے مجھے بے قرار کرتے ہوئے
تمہیں خبر ہی نہیں ہے کہ کوئی ٹوٹ گیا
محبتوں کو بہت پائیدار کرتے ہوئے
مکمل پڑھیں
32 13 Sep 2026
غزل

اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں

اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں
دھوپ اتری ہوئی ہے بالوں میں
تم مری آنکھ کے سمندر میں
تم مری روح کے اجالوں میں
مکمل پڑھیں
30 13 Sep 2026
غزل

بھول سکتا ہے انہیں کوئی بھی ایسے کیسے

بھول سکتا ہے انہیں کوئی بھی ایسے کیسے
رفتگاں دل میں بسا کرتے ہیں کیسے کیسے
جان لے کر بھی اگر خوش نہیں ہونے والا
کوئی بتلائے وہ پھر مانے گا ویسے کیسے
مکمل پڑھیں
29 13 Sep 2026
غزل

آج ہمیں یہ بات سمجھ میں آئی ہے

آج ہمیں یہ بات سمجھ میں آئی ہے
تم موسم ہو اور موسم ہرجائی ہے
تو نے کیسے موڑ پہ چھوڑ دیا مجھ کو
دل کی بات چھپاؤں تو رسوائی ہے
مکمل پڑھیں
34 13 Sep 2026
غزل

ترے فراق کے لمحے شمار کرتے ہوئے

ترے فراق کے لمحے شمار کرتے ہوئے
بکھر گئے ہیں ترا انتظار کرتے ہوئے
تمہیں خبر ہی نہیں ہے کہ کوئی ٹوٹ گیا
محبتوں کو بہت پائیدار کرتے ہوئے
مکمل پڑھیں
27 13 Sep 2026
غزل

میں ہوں ترا خیال ہے اور چاند رات ہے

میں ہوں ترا خیال ہے اور چاند رات ہے
دل درد سے نڈھال ہے اور چاند رات ہے
آنکھوں میں چبھ گئیں تری یادوں کی کرچیاں
کاندھوں پہ غم کی شال ہے اور چاند رات ہے
مکمل پڑھیں
32 13 Sep 2026
غزل

ہزاروں دکھ پڑیں سہنا محبت مر نہیں سکتی

ہزاروں دکھ پڑیں سہنا محبت مر نہیں سکتی
ہے تم سے بس یہی کہنا محبت مر نہیں سکتی
ترا ہر بار میرے خط کو پڑھنا اور رو دینا
مرا ہر بار لکھ دینا محبت مر نہیں سکتی
مکمل پڑھیں
31 13 Sep 2026
غزل

ترے گلے میں جو بانہوں کو ڈال رکھتے ہیں

ترے گلے میں جو بانہوں کو ڈال رکھتے ہیں
تجھے منانے کا کیسا کمال رکھتے ہیں
تجھے خبر ہے تجھے سوچنے کی خاطر ہم
بہت سے کام مقدر پہ ٹال رکھتے ہیں
مکمل پڑھیں
34 13 Sep 2026
غزل

ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے

ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے
کہ اشک روکنا تم سے محال ہونا ہے
ہر ایک لب پہ ہے میری وفا کے افسانے
ترے ستم کو ابھی لا زوال ہونا ہے
مکمل پڑھیں
31 13 Sep 2026
غزل

یہ جو چہرے سے تمہیں لگتے ہیں بیمار سے ہم

یہ جو چہرے سے تمہیں لگتے ہیں بیمار سے ہم
خوب روئے ہیں لپٹ کر در و دیوار سے ہم
یار کی آنکھ میں نفرت نے ہمیں مار دیا
مرنے والے تھے کہاں یار کی تلوار سے ہم
مکمل پڑھیں
31 13 Sep 2026
غزل

دکھ درد میں ہمیشہ نکالے تمہارے خط

دکھ درد میں ہمیشہ نکالے تمہارے خط
اور مل گئی خوشی تو اچھالے تمہارے خط
سب چوڑیاں تمہاری سمندر کو سونپ دیں
اور کر دیے ہوا کے حوالے تمہارے خط
مکمل پڑھیں
28 13 Sep 2026
غزل

دل کی چوکھٹ پہ جو اک دیپ جلا رکھا ہے

دل کی چوکھٹ پہ جو اک دیپ جلا رکھا ہے
تیرے لوٹ آنے کا امکان سجا رکھا ہے
سانس تک بھی نہیں لیتے ہیں تجھے سوچتے وقت
ہم نے اس کام کو بھی کل پہ اٹھا رکھا ہے
مکمل پڑھیں
41 13 Sep 2026
غزل

بارہا تجھ سے کہا تھا مجھے اپنا نہ بنا

بارہا تجھ سے کہا تھا مجھے اپنا نہ بنا
اب مجھے چھوڑ کے دنیا میں تماشہ نہ بنا
اک یہی دکھ مرے مرنے کے لیے کافی ہے
جیسا تو چاہتا تھا مجھ کو میں ویسا نہ بنا
مکمل پڑھیں
29 13 Sep 2026
غزل

سوچتا ہوں کہ اسے نیند بھی آتی ہوگی

سوچتا ہوں کہ اسے نیند بھی آتی ہوگی
یا مری طرح فقط اشک بہاتی ہوگی
وہ مری شکل مرا نام بھلانے والی
اپنی تصویر سے کیا آنکھ ملاتی ہوگی
مکمل پڑھیں
31 13 Sep 2026
غزل

اداس راتوں میں تیز کافی کی تلخیوں میں

اداس راتوں میں تیز کافی کی تلخیوں میں
وہ کچھ زیادہ ہی یاد آتا ہے سردیوں میں
مجھے اجازت نہیں ہے اس کو پکارنے کی
جو گونجتا ہے لہو میں سینے کی دھڑکنوں میں
مکمل پڑھیں
29 13 Sep 2026
غزل

تم مری آنکھ کے تیور نہ بھلا پاؤ گے

تم مری آنکھ کے تیور نہ بھلا پاؤ گے
ان کہی بات کو سمجھوگے تو یاد آؤں گا
ہم نے خوشیوں کی طرح دکھ بھی اکٹھے دیکھے
صفحۂ زیست کو پلٹو گے تو یاد آؤں گا
مکمل پڑھیں
32 12 Sep 2026
غزل

گنگناتے ہوئے آنچل کی ہوا دے مجھ کو

گنگناتے ہوئے آنچل کی ہوا دے مجھ کو
انگلیاں پھیر کے بالوں میں سلا دے مجھ کو
جس طرح فالتو گلدان پڑے رہتے ہیں
اپنے گھر کے کسی کونے سے لگا دے مجھ کو
مکمل پڑھیں
31 12 Sep 2026
غزل

اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہوگا

اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہوگا
ایک دن آئے گا وہ شخص ہمارا ہوگا
زندگی اب کے مرا نام نہ شامل کرنا
گر یہ طے ہے کہ یہی کھیل دوبارہ ہوگا
مکمل پڑھیں
29 12 Sep 2026
غزل

دیار غیر میں کیسے تجھے صدا دیتے

دیار غیر میں کیسے تجھے صدا دیتے
تو مل بھی جاتا تو آخر تجھے گنوا دیتے
تمہی نے ہم کو سنایا نہ اپنا دکھ ورنہ
دعا وہ کرتے کہ ہم آسماں ہلا دیتے
مکمل پڑھیں
36 12 Sep 2026
غزل

کسی کی آنکھ سے سپنے چرا کر کچھ نہیں ملتا

کسی کی آنکھ سے سپنے چرا کر کچھ نہیں ملتا
منڈیروں سے چراغوں کو بجھا کر کچھ نہیں ملتا
ہماری سوچ کی پرواز کو روکے نہیں کوئی
نئے افلاک پہ پہرے بٹھا کر کچھ نہیں ملتا
مکمل پڑھیں
35 12 Sep 2026
غزل

یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے

یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے
اے میری ماں مرا سارا مقام تم سے ہے
تمہارے دم سے ہیں میرے لہو میں کھلتے گلاب
مرے وجود کا سارا نظام تم سے ہے
مکمل پڑھیں
30 12 Sep 2026
غزل

آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتی

آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتی
یادوں سے کوئی رات جو خالی نہیں جاتی
اب عمر نہ موسم نہ وہ رستے کہ وہ پلٹے
اس دل کی مگر خام خیالی نہیں جاتی
مکمل پڑھیں
31 12 Sep 2026
غزل

سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تری آنکھوں کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تمہارا نام لکھنے کی اجازت چھن گئی جب سے
کوئی بھی لفظ لکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
مکمل پڑھیں
30 12 Sep 2026
غزل

باندھ لیں ہاتھ پہ سینے پہ سجا لیں تم کو

باندھ لیں ہاتھ پہ سینے پہ سجا لیں تم کو
جی میں آتا ہے کہ تعویذ بنا لیں تم کو
پھر تمہیں روز سنواریں تمہیں بڑھتا دیکھیں
کیوں نہ آنگن میں چنبیلی سا لگا لیں تم کو
مکمل پڑھیں
38 12 Sep 2026
غزل

اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو

اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو
میں کہ صدیوں سے ادھورا ہوں مکمل کر دو
نہ تمہیں ہوش رہے اور نہ مجھے ہوش رہے
اس قدر ٹوٹ کے چاہو مجھے پاگل کر دو
مکمل پڑھیں
36 12 Sep 2026